قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي يُصِيبُ وَيُخْطِئُ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1326.   حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ

جامع ترمذی:

كتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں 

  (

باب: قاضی صحیح فیصلے کرتاہے ، اور اس سے غلطی بھی ہوتی ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1326.   ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہوجائے تو (بھی) اس کے لیے ایک اجر ہے‘‘۲؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱۔ اس باب میں عمرو بن عاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں۔۲۔ ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند سفیان ثوری عن یحییٰ بن سعیدعن عبدالرزاق عن معمرعن سفیان الثوری روایت کی ہے ۔