قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدِّيَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ أَمْ لاَ​)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

1401.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ

جامع ترمذی:

كتاب: دیت وقصاص کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: آدمی اپنے بیٹے کوقتل کردے توکیا قصاص لیا جائے گا یانہیں؟​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1401.   عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’مسجدوں میں حدود نہیں قائم کی جائیں گی اوربیٹے کے بدلے باپ کو(قصاص میں) قتل نہیں کیاجائے گا‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے اس حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور اسماعیل بن مسلم مکی کے حفظ کے سلسلے میں بعض اہل علم نے کلام کیا ہے۱ ؎۔