قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِرَاءِ​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

1994.   حَدَّثَنَا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ابْنِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

جامع ترمذی:

كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں 

  (

باب: تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1994.   عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’تمہارے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔