قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّقْيَةِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2055.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنْ التَّوَكُّلِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: طب (علاج ومعالجہ) کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جھاڑپھونک کی کراہت کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2055.   مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے بدن داغا یا جھاڑپھونک کرائی وہ تو کل کرنے والوں میں سے نہ رہا‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اورعمران بن حصین‬ ؓ س‬ے بھی احادیث آئی ہیں۔