قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الطِّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2059.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُرْوَةَ وَهُوَ ابْنُ عَامِرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ فَقَالَ نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَبُرَيْدَةَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

جامع ترمذی:

كتاب: طب (علاج ومعالجہ) کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نظربدکی وجہ سے جھاڑ پھونک کرنے کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2059.   عبید بن رفاعہ زرقی ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس‬ ؓ ن‬ے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! جعفر طیار ؓ کے لڑکوں کو بہت جلد نظربد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، اس لیے کہ اگرکوئی چیز تقدیرپر سبقت کرسکتی تواس پر نظربد ضرورسبقت کرتی‘‘ ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔