قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْوَصَايَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ​)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

2122.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تُقِرُّونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ

جامع ترمذی:

كتاب: وصیت کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قرض کی ادا کرنا وصیت پر مقدم ہے​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2122.   علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے وصیت (کے نفاذ) سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا، جب کہ تم (قرآن میں) قرض سے پہلے وصیت پڑھتے ہو۱ ؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: عام اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔