قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات وشمائل للنبیﷺ

جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3003.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ وَيَقُولُ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سَمِعْت عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ غَلِطَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں 

  (

باب: سورہ آل عمران کی تفیسر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3003.   انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپﷺ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپﷺ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپﷺ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپﷺ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ’’وہ امت کیسے فلاح یاب ہوگی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کر رہے ہوں‘‘۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْئٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُوْنَ﴾ نازل فرمائی۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲۔ میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں۱؎۔