قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ دُعَاءِ اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3516.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ حَدَّثَنَا زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَالَ اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَنْفَلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَيُقَالُ لَهُ زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرَفِيُّ وَكَانَ يَسْكُنُ عَرَفَاتٍ وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ

جامع ترمذی:

كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں 

  (

باب: اس دعاء کے بیان میں((اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي))

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3516.   ابوبکرصدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: (اَللَّهُمَّ خِرْ لِي وَ اخْتَرْ لِي)۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے۔۲۔ اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے (کسی اور نے نہیں) اورکسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔