قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي الْفَضْلِ عَمِّ النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِؓ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3762.   حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَكَ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: عباس بن عبد المطلبؓ کے مناقب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3762.   عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا: ’’دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تا کہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اورآپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے‘‘، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپﷺ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ’’اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑ ے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔