قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍؓ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

3817.   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْمَتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيَّ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: اسامہ بن زیدؓ کے مناقب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3817.   اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدید ہو گئی تو میں (جرف سے) اتر کر مدینہ آیا اور (میرے ساتھ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر گیا تو آپﷺ کی زبان بند ہو چکی تھی، پھر اس کے بعد آپﷺ کچھ نہیں بولے، آپﷺ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپﷺ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔