قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3849.   حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: سعد بن معاذؓ کے مناقب

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3849.   انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا: کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے‘‘۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔