قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقریری

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ التَلبِيَةُ عَنِ النِسَاءِ وَالرَّميِ عَنِ الصِبيَانِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

927.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْوَاسِطِيُّ قَال سَمِعْتُ ابْنَ نُمَيْرٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا إِذَا حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا نُلَبِّي عَنْ النِّسَاءِ وَنَرْمِي عَنْ الصِّبْيَانِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا يُلَبِّي عَنْهَا غَيْرُهَا بَلْ هِيَ تُلَبِّي عَنْ نَفْسِهَا وَيُكْرَهُ لَهَا رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ

جامع ترمذی:

كتاب: حج کے احکام ومسائل 

  (

باب: عورتوں کی طرف سے تلبیہ پکارنے اور بچوں کی طرف سے رمی کرنے کے بیان میں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

927.   جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے رمی کرتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اہل علم کااس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسراتلبیہ نہیں کہے گا، بلکہ وہ خود ہی تلبیہ کہے گی البتہ اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلندکرنامکروہ ہے۔