قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمة الباب:

1217 .   حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَ ابْنِ آدَمَ وَبَيْنَ نَفْسِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1217.   سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان انسان کے اور اس کے دل کے درمیان مداخلت کرتا ہے، چنانچہ اس (نمازی ) کوئی معلوم نہیں رہتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے۔ جب یہ صورت حال پیش آئے تو اسے چاہیے کہ سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔‘‘