قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ سَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

151.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا مَا وَارَى إِبْطُ بِلَالٍ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت 

  (

باب: حضرت سلمان، ابوذر اور مقداد کے فضائل

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

151.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ کی راہ میں تکلیفیں آئیں جب کسی اور کو تکلیفیں نہیں دی جاتی تھیں۔ اور مجھے اللہ کی راہ میں خوف زدہ کیا گیا جب کسی اور کو ڈرایا دھمکایا نہیں جاتا تھا۔ بعض اوقات مجھ پر تیسری رات بھی اس حال میں آجاتی تھی کہ میرے لئے اور بلال کے لئے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی جسے کوئی ذی روح کھا سکے، مگر اتنی سی مقدار میں کہ جسے حضرت بلال ؓ کی بغل چھپالے۔‘‘