قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمَّالِ الصَّدَقَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1810.   حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ تَذَاكَرَ هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ، «أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا، أَوْ شَاةً، أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ؟» ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: زکاۃ وصول کرنے والے ملازمین کے مسائل

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1810.   حضرت عبداللہ بن انیس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب ؓ سے زکاۃ کے مسئلہ پر ان کی بات چیت ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو زکاۃ میں خیانت کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرماتے نہیں سنا: جو کوئی اس میں سے ایک اونٹ یا ایک بکری کی خیانت کرے گا، قیامت کے دن اسے اپنے اوپر لادے ہوئے حاضر ہو گا؟ حضرت عبداللہ بن انیس ؓ نے فرمایا: ہاں (سنی ہے۔)