قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1949 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ» ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دودھ کا تعلق مرد سے بھی ہوتا ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1949.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے رضاعی چچا نے آکر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ (معلوم ہونے پر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیرے چچا کو تیرے پاس (گھر میں) آنا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تیرے چچا ہیں، انہیں تیرے پاس آنا چاہیے۔