قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا لِصَاحِبَتِهَا)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

1974.   حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} [النساء: 128] ، فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عورت اپنی باری دوسری بیوی کو دے سکتی ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1974.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت مبارکہ ﴿وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌ‌ۭ﴾ ’’اور صلح بہتر ہے۔‘‘ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے نکاح میں ایک عورت تھی، جو طویل عرصہ اس کے ساتھ رہی، اور اس سے اس مرد کی اولاد بھی ہوئی، پھر (جب وہ بوڑھی ہو گئی تو) مرد نے چاہا کہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے نکاح کر لے۔ عورت نے اسے اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسی کے نکاح میں رہے گی، وہ اسے باری نہ دے (اس نے کہا: میں اپنی باری چھوڑتی ہوں، طلاق نہ دیں۔)