قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْغَيْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2011.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ، فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ، فَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دودھ پلانے والی عورت سے مباشرت کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2011.   حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں نے چاہا تھا کہ تمہیں غیلہ (دودھ پلانے والی عورت سے ہم بستر ہونے) سے منع کر دوں۔ میں نے دیکھا کہ اہل فارس اور اہل روم غیلہ کرتے ہیں تو ان کے بچے نہیں مرتے (ان کے بچوں کو نقصان نہیں ہوتا۔) اور میں نے نبی ﷺ سے سنا جب کہ آپ سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ زندہ درگور کرنے کی پوشیدہ صورت ہے۔