قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ الْغَيْلِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2012.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُهَاجِرَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَانَتْ مَوْلَاتَهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الْغَيْلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعَهُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دودھ پلانے والی عورت سے مباشرت کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2012.   حضرت اسماء بنت یزید بن سکن ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! غیلہ تو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے سوار پر بھی اثر انداز ہو کر اسے گرا دیتا ہے۔