قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ)

حکم : ضعیف جداً

ترجمۃ الباب:

2128.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ، فَلْيَفِ بِهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: غیر معین نذر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2128.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کا نام نہ لیا (تعین نہ کیا)، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ اور جس نے نذر مانی جسے وہ پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کا کفارہ بھی قسم کا کفارہ ہے۔ اور جس نے ایسی نذر مانی جسے پورا کرنے کی وہ طاقت رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نذر پوری کرے۔