قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يُسَعِّرَ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2201 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَوْ قَوَّمْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَا يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهُ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: ( سرکاری طور پر ) قیمت مقرر کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2201.   حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھاؤ چڑھ گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! کاش آپ قیمتیں مقرر فرما دیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میں تم سے جدا ہوں گا تو کوئی شخص مجھ سے کسی ظلم کی تلافی کا طلب گار نہیں ہو گا، جو ظلم میں نے اس پر کیا ہو۔