قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2458 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالْوَرِقِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: خالی زمین کو سونے چاندی (رقم) کے عوض کرائے پر دینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2458.   حضرت حنظلہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت رافع بن خدیج ؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم اس شرط پر زمین کرائے پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس ٹکڑے میں پیدا ہو، وہ تیرا ہے اور جو کچھ اس ٹکڑے میں پیدا ہو، وہ میرا ہے، تو ہمیں پیداوار کے عوض (اس انداز سے) زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا۔ چاندی (مقرر رقم) کے عوض زمین کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا گیا۔