موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْعِتْقِ (بَابُ الْمُكَاتَبِ)
حکم : صحیح
2521 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ لَهَا إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي قَالَ فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلِي قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: غلام آزاد کرنے سے متعلق احکام ومسائل
باب: غلام سے آزادی کے معاہدے کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2521. نبی ﷺ کی زؤجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ ؓ ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں جب کہ ان کی مکاتبت ہو چکی تھی۔ ان کے مالکوں نے ان سے نو اوقیے پر مکاتبت (آزادی) کا معاہدہ کیا تھا۔ ام المومنین ؓ نے انہیں کہا: اگر تمہارے مالکوں کی مرضی ہو تو میں پوری رقم ایک بار ہی ادا کر دوں بشرطیکہ ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔ حضرت بریرہ ؓ نے اپنے مالکوں کے پاس جا کر اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ نہ مانے مگر اس شرط پر کہ ولاء انھی کے لیے ہو گا (انہوں نے اصرار کیا کہ ولاء کا حق انہی کو حاصل ہو گا۔) ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معاہدہ کر لو۔ پھر (اس کے بعد) نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا، (اس میں) اللہ کی حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں۔ ہر وہ شرط جو اللہ کی کتاب میں نہیں، وہ کالعدم ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں۔ اللہ کی کتاب سچی ہے، اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے (جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔) ولاء اس کی ہوتی ہے جو (رقم ادا کر کے) آزاد کرے۔