قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ عَقْلِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَصَبَتِهَا وَمِيرَاثِهَا لِوَلَدِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2646.   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ قَتَلَ ابْنَهُ فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً فَقَالَ ابْنُ أَخِي الْمَقْتُولِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عورت کی دیت اس کے عصبہ کے ذمے ہے اور اس کا ترکہ اس کی اولاد کے لیے ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2646.   عمرو بن شعیب ؓ سے روایت ہے کہ بنو مدلج قبیلے کے ایک آدمی ابو قتادہ نے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا۔ حضرت عمر ؓ نے اس سے سو اونٹنیاں وصول کر لیں۔ تیس حقے (تین سالہ اونٹنیاں) تیس جذعے (چار سالہ اونٹنیاں) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں۔ پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد سنا ہے: ’’قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ہے۔