قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَاب الْحَيْفِ فِي الْوَصِيَّةِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2704.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِينٌ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت میں نا انصافی کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2704.   حضرت ابو ہریرہ ؓسے  روایت ہے، رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: ’’آدمی ستر سال تک نیک لوگوں والے کام کرتا رہتا ہے، پھر جب (مرتے وقت) وصیت کرتا ہے تو وصیت میں نا انصافی کرتا ہے، اس طرح اس کا انجام برے کام پر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔ اور ایک آدمی ستر سال تک برے لوگوں والے کام کرتا رہتا ہے، پھر (مرتے وقت) وصیت میں انصاف سے کام لیتا ہے تو اس طرح اس کا انجام نیک کام پر ہوتا ہے، چنانچہ وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ ٓؓ نے فرمایا: اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ﴿تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه  يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا ۭ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ   وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَه يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا ۠ وَلَه عَذَابٌ مُّهِيْنٌ﴾  ’’یہ حدیں اللہ کی (مقرر کی ہوئی) ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی فرماں برداری کرے، اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرے اور اس کی (مقررہ) حدوں سے آگے نکلے، اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘