قسم الحديث (القائل): قدسي اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِمْسَاكِ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرِ عِنْدَ الْمَوْتِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

2707.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: زندگی میں بخل اورمرتےوقت فضول خرچی کی ممانعت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2707.   حضرت بسر بن جحاش قرشی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، پھر اپنی سباب انگلی (اس کی طرف اشارے کے طور پر) رکھی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا، پھر جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے یہ کہتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا تب تو کہتا ہے: میں صدقہ کرتا ہوں۔ اب صدقے کا وقت کہاں ہے؟‘‘