قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ دُخُولِ الْكَعْبَةِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

3064 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي، وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي، وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ؟ فَقَالَ: «إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ، أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: کعبہ شریف میں داخل ہونا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3064.   ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبیﷺ میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے تو آپﷺ مطمئن اور خوش تھے- پھر میرے پاس واپس آے تو غمگین تھے- میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ میرے پاس سے تشریف لےگے تو آپ مطمئن اور خوش تھے اور واپس آے تو آپ غمگین (اور پریشان) ہیں (اس کی وجہ کیا ہے؟) آپﷺ نے فرمایا: ’’میں کعبے کے اندر گیا تھا۔ اب میرا جی چاہتا ہے کہ (کاش) میں نے ایسے نہ کیا ہوتا۔ مجھےخدشہ ہے کہ (اپنے اس عمل کی وجہ سے) اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں مبتلا نہ کر دوں۔‘‘