موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: تقریری
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ الْحُوَّارَى)
حکم : صحیح
3335 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْتُ: فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ كُنَّا نَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: میدے (کی روٹی ) کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3335. حضرت ابو حازم (سلمہ بن دینار)ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے سہل بن سعد ساعدی ؓ سے سوال کیا: کیا آپﷺ نے میدے کی روٹی دیکھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کی وفات تک میدے کی روٹی نہیں دیکھی تھی۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہﷺ کے زمانے میں لوگوں کے پاس چھلنیا ں ہوتی تھیں؟ انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کی وفات تک چھلنی نہیں دیکھی۔ میں نے کہا: پھر آپ لوگ جو (جو کا آٹا) بغیر چھانے کیسے کھا لیتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں! ہم لوگ اس میں پھونک مار لیا کرتے تھے۔ جو (بھوسی یاچھان) اڑ ہوتا، اڑ جاتا۔ جو رہ جاتا، ہم اسے بھگو لیتے (اور آٹا گوند کر روٹی پکا لیتے۔)