قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ)

حکم : ضعیف الإسناد

ترجمة الباب:

4030 .   هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً، فَقَالَ: «يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ؟» قَالَ: هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا، قَالَ: وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ، فَيُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ، فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ، زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ، وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا، وَكَانَ لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ، فَطَلَّقَهَا ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى، فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا، فَكَتَمَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الْأُخْرَى، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ، فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ يَحْتَطِبَانِ فَرَأَيَاهُ، فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا، وَأَفْشَى الْآخَرُ، وَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ، فَقِيلَ: وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ، فَسُئِلَ، فَكَتَمَ وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ، قَالَ: فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ، إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ، فَقَالَتْ: تَعِسَ فِرْعَوْنُ، فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا، وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا، فَأَبَيَا، فَقَالَ: إِنِّي قَاتِلُكُمَا، فَقَالَا: إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا، إِنْ قَتَلْتَنَا أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ، فَفَعَلَ، فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً، فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مصیبت پر صبر کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4030.   حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ جس رات رسول اللہﷺ کو معراج ہوئی، آپﷺ کو (سفر معراج کے دوران میں ایک جگہ) عمدہ خوشبو محسوس ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا: جبریل! یہ عمدہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ ماشطہ کی، ان کے دو بیٹوں کی اور ان کے شوہر کی قبروں کی خوشبو ہے۔ انہوں نے فرمایا: ان کا واقعہ یوں ہے کہ حضرت خضر بنی اسرائیل کے معزز افراد میں سے تھے۔ وہ (اپنے کام کاج کے سلسلے میں) ایک راہب کے پاس سے گزرتے جو اپنے عبادت خانے میں ہوتا تھا۔ وہ انہیں اسلام کی تعلیم دیتا۔ جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کی شادی کردی۔ خضر نے اسے (اسلام کی) تعلیم دی اور اس سے وعدہ لیا کہ کسی کو نہیں بتائے گی۔ وہ عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ ان کےوالد نے ایک اورعورت سے ان کی شادی کردی۔ انہوں نے اسے بھی (اسلام کی) تعلیم دی اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ کسی کو نہیں بتائے گی۔ ان میں سے ایک عورت نے تو راز رکھا جبکہ دوسری نے ظاہر کر دیا۔ وہ (وطن سے) بھاگ گئے حتیٰ کہ سمندر میں ایک جزیرے میں جا پہنچے۔ (وہاں) دو آدمی ایندھن جمع کرنے آئے۔ انہوں نے خضر کو دیکھ لیا۔ ان میں سے ایک نے راز رکھا، دوسرے نے ظاہر کردیا۔ اس نے کہا: میں نے خضر کو دیکھا ہے۔ اس سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ اور کس نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں نے۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے راز چھپا لیا۔ ان کے ہاں یہ قانون تھا کہ جو شخص جھوٹ بولے، اسے قتل کردیا جائے۔ اس (چھپانے والے) چھپانے والی نے عورت سے شادی ۔ وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی کہ کنگھی (اس کے ہاتھ سے) گر گئی۔ اس نے کہا: فرعون کا براہو۔ اس نے اپنے باپ کو بتایا۔ اس عورت (ماشطہ کنگھی کرنے والی) کا خاوند بھی تھا اور دو بیٹے تھے۔ فرعون نے انہیں بلوالیا۔ اس نے ان میاں بیوی کو دین سے پھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے انکار کردیا۔ اس نے کہا: میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا: اگر تو ہمیں قتل کرے تو ہم پر یہ احسان کرنا کہ ہمیں ایک جگہ دفن کرنا۔ اس نے ایسے ہی کیا۔ جب نبیﷺ کو معراج ہوئی تو آپﷺ کو عمدہ خوشبو محسوس ہوئی۔ نبیﷺ نے جبرئیل سے دریافت کیا تو انہوں نے یہ بات سنائی۔