قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ ذَهَابِ الْأَمَانَةِ)

حکم : موضوع

ترجمۃ الباب:

4054.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: دیانت داری کا ختم ہو جا نا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4054.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا کو چھین لیتا ہے۔ اور جب اس سے حیا چھین لیتا ہے تو تجھے وہ شخص نا پسندیدیہ اور قابل نفرت محسوس ہوتا ہے۔ جب وہ ناپسندیدہ اور قابل نفرت ہو جاتا ہے تو اس سے دیانت داری چھین لی جاتی ہے۔ جب اس سے دیانت داری چھن جاتی ہے تو تو اسے خائن اور خیانت میں مشہور دیکھتا ہے۔ جب وہ خائن اور خیانت میں مشہور ہو جاتا ہے تو اس سے رحم دلی چھن جاتی ہے۔ جب اس سے رحم دلی چھن جاتی ہے تو تو اسے لعنتی اور لوگوں سے اس پر لعنتیں پڑتی دیکھتا ہے۔ جب تو اسے لعنتی دیکھے اور اس پر لعنتیں پڑ رہی ہوں تو اس کی گردن سے اسلام کا قلادہ اتر جاتا ہے۔