قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ الْأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

529.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَقَدْ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فَقَامَ إِلَيَّ بِأَبِي وَأُمِّي فَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَسُبَّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لَا يُبَالُ فِيهِ وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَلِلصَّلَاةِ ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

کتاب تمہید  (

باب: اگرزمین پیشاب زدہ ہو جائے تو اسے کس قدر دھویاجائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

529.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ (مسجد میں) تشریف فرما تھے کہ ایک بدو مسجد میں آیا۔ اس نے کہا: اے اللہ! مجھے اور محمد (ﷺ) کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کی بخشش نہ کرنا۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ’’تو نے ایک وسیع چیز (رحمت الٰہی) کو محدود کر دیا۔‘‘ پھر وہ (اعرابی) واپس پلٹا۔ ابھی مسجد ہی کے ایک حصے میں تھا کہ (کھڑا ہو کر) پاؤں ایک دوسرے سے دور کر کے پیشاب کرنے لگا۔ اسی اعرابی صحابی ؓ نے دین کی سمجھ آ جانے کے بعد (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں! آپ اٹھ کر میرے پاس آئے، مجھے نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، بس یہ فرمایا: ’’یہ مسجد ایسی جگہ ہے کہ اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا، یہ تو اللہ کے ذکر اور نماز کے لئے تعمیر کی گئی ہے۔‘‘ پھر آپ نے پانی کا ڈول طلب فرمایا جو پیشاب پر بہا دیا گیا۔