موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: منقطع ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِي سَكْتَتَيْ الْإِمَامِ)
حکم : ضعیف
844 . حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَمِيلٍ الْعَتَكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: «سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ، فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ. قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: وَإِذَا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] قَالَ: وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ: إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ، حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: امام کے دو سکتوں کابیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
844. حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے دو سکتے یاد ہیں۔ سیدنا عمران بن حصین ؓ نے اس سے اتفاق نہ کیا تو ہم نے مدینہ میں سیدنا ابی بن کعب ؓ کو (خط) لکھا (کہ اس مسئلہ میں فیصلہ دیں) انہوں نے (جوابی طور پر) لکھ بھیجا کہ سیدنا سمرہ ؓ نے (صحیح) یاد رکھا ہے۔ سعید ؓ نے فرمایا: ہم نے قتادہ ؓ سے دریافت کیا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (ایک تو) جب نماز میں داخل ہوتے ہیں اور (ایک) جب (امام) قراءت سے فارغ ہوتا ہے۔ دوسرےموقع پر قتادہ ؓ نے فرمایا: جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ کہتا ہے۔ سیدنا قتادہ ؓ نے فرمایا: صحابہ کرام کو یہ بات پسند تھی کہ جب امام قراءت سے فارغ ہو تو تھوڑا سا خاموش ہو جائے حتی کہ اس کا سانس درست ہو جائے۔