قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ (بَابُ مَنْ صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ عَلِمَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1045.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ}[البقرة:144]، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ: أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، -مَرَّتَيْنِ-، فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل 

  (

باب: جو شخص قبلے کے علاوہ کسی اور طرف نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1045.   سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ تو جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} ”چنانچہ آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی جانب کر لیجئے اور تم جہاں بھی ہو اپنے چہرے اس کی طرف کر لو۔“ تو ایک شخص بنو سلمہ کے افراد کے پاس سے گزرا جب کہ وہ فجر کی نماز میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے انہیں پکار کر کہا: خبردار! قبلہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس نے دو بار یہ ندا دی۔ چنانچہ وہ لوگ اپنی اسی رکوع کی حالت میں کعبہ کی جانب پھر گئے۔