قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

193.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ: ابْنُ السَّرْحِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا- مِصْرَ- عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ- مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ- أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ - مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ، فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ؟. قَالَ: نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي! فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: طہارت کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: آگ پر پکی چیز کے استعمال سے وضو نہ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

193.   عبید بن ثمامہ مرادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ جو کہ اصحاب رسول میں سے تھے، ہمارے ہاں مصر میں تشریف لائے۔ میں نے انہیں وہاں مسجد میں حدیث بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے کہ مجھے یاد ہے کہ میں ایک شخص کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجلس میں ساتواں فرد تھا یا چھٹا تھا کہ بلال آئے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز کی اطلاع دی تو ہم نکلے اور ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس کی ہنڈیا آگ پر رکھی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا ”کیا تمہاری ہنڈیا تیار ہو گئی ہے؟“ اس نے کہا جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان! تو آپ نے اس سے گوشت کی ایک بوٹی لی اور کھاتے ہوئے چلے گئے حتیٰ کہ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔