قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الصَّلَاةِ بِجَمْعٍ)

حکم : حسن صحيح

ترجمۃ الباب:

1935.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1935.   سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ (مزدلفہ میں) جب نبی کریم ﷺ نے صبح کی اور جبل قزح پر وقوف کیا تو فرمایا: ”یہ قزح ہے اور جائے وقوف ہے۔ اور مزدلفہ سارا ہی جائے وقوف ہے۔ میں نے اس جگہ قربانی کی ہے اور منیٰ سب ہی قربان گاہ ہے۔ سو اپنے اپنے پڑاؤ پر قربانیاں کرو۔“