قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّیامِ (بَابٌ فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2341.   حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا، وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ، فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: >أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟<، قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رمضان کے چاند میں ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2341.   عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و ایک بار رمضان کے چاند میں شک ہو گیا۔ پس انہوں نے ارادہ کیا کہ نہ قیام کریں اور نہ روزہ رکھیں۔ تو حرہ کی طرف سے ایک اعرابی آیا۔ اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تو «لا إله إلا الله محمد رسول الله» کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں اور شہادت دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ تب آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ رات کو قیام کریں اور (صبح کو) روزہ رکھیں۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے بواسطہ سماک، عکرمہ سے مرسل روایت کیا ہے۔ اور قیام کا ذکر حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔