قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْقُعُودِ مِنْ الْعُذْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2508.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:َ >لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ<. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ فَقَالَ: >حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: جہاد کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کسی ( معقول ) عذر کے باعث جہاد کے لیے نہ جانا درست ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2508.   سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم لوگ مدینے میں ایسے لوگوں کو چھوڑ آئے ہو کہ جو سفر بھی تم کرتے ہو یا کوئی خرچ کرتے ہو یا کوئی وادی طے کرتے ہو تو وہ (اجر و ثواب میں) تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ ہمارے ساتھ کس طرح ہوتے ہیں حالانکہ وہ مدینے میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو عذر اور مجبوری نے روکے رکھا ہے۔“