قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ الْإِجَارَةِ (بَابٌ فِي كَسْبِ الْأَطِبَّاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3420.   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ، فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ، فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، وَكُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ، فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لَهُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >كُلْ، فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: طبیبوں کی کمائی کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3420.   جناب خارجہ بن صلت نے اپنے چچا (سیدنا علاقہ بن صحار تمیمی ؓ) سے روایت کیا کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: تم اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے پاس سے خیر (قرآن اور ذکر اللہ) لے کر آئے ہو، چنانچہ ہمارے اس شخص پر دم کر دو۔ پھر وہ لوگ ان کے پاس ایک مجنون (دیوانے) کو لائے جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے تین دن تک صبح شام سورۃ فاتحہ کا دم کیا، وہ جب بھی اسے ختم کرتے تو اپنا لعاب جمع کرتے اور اس پر پھونک دیتے۔ پھر وہ ایسے ہو گیا جیسے کہ بندھن سے کھول دیا گیا ہو۔ ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور یہ سب بیان کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھا لو، قسم میری عمر کی! لوگ باطل جھاڑ پھونک سے کھاتے ہیں اور تم نے حق سچ دم سے کھایا ہے۔“