قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

605.   حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: >إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

605.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ب‬یان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں نماز پڑھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے چنانچہ جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔“