قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1018.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نمازی سلام کا جواب کس طرح دے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1018.   حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے نبی ﷺ نے کسی کام سے بھیجا۔ جب میں (واپس) خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے اشارہ کیا (اور اشارے سے جواب دیا) جب نبی ﷺ (نماز سے) فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ’’ابھی ابھی تم نے مجھے سلام کیا تھا اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ (اس لئے زبان سے جواب نہیں دے سکا۔‘‘)