موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ)
حکم : صحیح
2053 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 29] ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ» ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ، وَاللَّهِ، أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: فَقَرَأَ عَلَيَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا} [الأحزاب: 28] الْآيَاتِ، فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل
باب: مرد کا اپنی بیوی کو ( نکاح میں رہنے یا الگ ہو جانے کا ) اختیار دینا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2053. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ﴾ اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عائشہ! میں تجھے ایک بات کہہ رہا ہوں، بہتر ہے کہ تو اس (کا فیصلہ کرنے) میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ ام المومنین نے کہا: اللہ کی قسم! (آپ نے مشورہ لینے کو اس لیے فرمایا تھا کہ) آپ کو یقین تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ ام المومنین ؓ فرماتی ہیں: (یہ فرمانے کے بعد) آپ نے مجھے وہ آیات پڑھ کر سنائیں: ﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَزِينَتَهَا﴾ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے فر دیجئے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور دنیا کی زیب و زینت مطلوب ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر وں۔ اور اگر تم اللہ کی، اس کے رسول کی اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘‘ میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں نے (دنیا کی دولت کے مقابلے میں) اللہ اور اس کے رسول (کی رضا اور محبت) کا انتخاب کر لیا ہے۔