قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّيْدِ (بَابُ الذِّئْبِ وَالثَّعْلَبِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3235.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ قَالَ: «وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟ قَالَ: «وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: بھیڑیے اور لومڑی کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3235.   حضرت خزیمہ بن جزء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپﷺ سے زمین کے (جنگلی) جانوروں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ لومڑی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ لومڑی کون کھاتا ہے؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ بھیڑیے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’ کیا بھیڑیے کو کوئی ایسا شخص کھا سکتا ہے جس میں بھلائی موجود ہو؟‘‘