قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3558.   حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ فَقَالَ ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ قَالَ لَا بَلْ غَسِيلٌ قَالَ الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جب کوئی نیا لباس پہنے تو کیا کہے ?

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3558.   حضر ت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو سفید قمیض پہنے دیکھا تو فرمایا: تمھارا یہ لباس دھلا ہوا ہے یا نیا ہے؟ انھوں نے کہا: بلکہ دھلا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: (الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا) ’’تمھیں نیا لباس، قابل تعریف زندگی اور شہادت کی موت نصیب ہو‘‘