قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

4198.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَهُوَ الَّذِي يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَيُصَلِّي وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عمل کو(غیر مقبول ہونے سے) محفوظ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4198.   اُم المؤمنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! (اللہ کا فرمان ہے:) ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جو دینا ہوتا ہے دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کا مرتکب ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں اے ابوبکر کی بیٹی!‘‘ یا فرمایا: ’’نہیں اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اسے ڈر رہتا ہے کہ شاید (اس کا عمل) قبول نہ ہو۔‘‘