Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Regarding Faith )
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
71.
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں حتٰی کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور میں (محمد) اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں۔‘‘
تشریح:
(1) اللہ کی راہ میں جنگ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم کرنا ہے۔ (2) کسی شخص کے اسلام میں واقعی داخل ہو جانے کا ثبوت تین چیزیں ہیں: توحید و رسالت کا اقرار کرنا، نماز باقاعدی سے ادا کرنا اور اسلام کے مالی حق یعنی زکاۃ کی ادائیگی کرنا۔ (3) مذکورہ بالا آیات اور حدیث میں اسلام کے صرف تین ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ (اقرار شہادتین، نماز اور زکاۃ) اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتین کے بغیر تو اسلام میں داخل ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ نماز ایسی اجتماعی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر ہر حال میں ادا کرنا فرض ہے، اس لیے اسے اسلام اور کفر کے درمیان امتیازی علامت قرار دیا گیا ہے اور زکاۃ اگرچہ صرف مال داروں پر فرض ہے لیکن اسلامی حکومت دولت مندوں سے اس کی وصولی اور ناداروں میں اس کی تقسیم کا جس طرح اہتمام کرتی ہے، اس بنا پر یہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں واضح امتیاز کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ زکاۃ صرف مسلمانوں سے لی جاتی ہے اور مسلمانوں ہی میں تقسیم کی جاتی ہے۔ (4) اس حدیث میں دو ارکان (روزہ اور حج) کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے اگر ایک شخص بغیر روزہ رکھے اپنے آپ کو روزے دار باور کرانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔ اور حج اول تو سب مسلمانوں پر فرض ہی نہیں، دوسرے صاحب استطاعت افراد پر بھی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔ علاوہ ازیں جس قوم کے خلاف جنگ کی جا رہی ہو وہ اگر روزہ رکھنے اور حج کرنے کا اقرار بھی کریں تو اس کے عملی اظہار کے لیے انہیں خاص مہینوں کا انتظار کرنا پڑے گا، لہذا جنگ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ایسے کاموں سے قائم کرنا حکمت کے منافی ہے۔ واللہ أعلم.
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في "السلسلة الصحيحة" 1 / 691 :
هو حديث متواتر كما قال السيوطي في " الجامع الصغير " فقد ورد عن جمع من
الصحابة بألفاظ متقاربة .
الأول : أبو هريرة و له عنه طرق :
1 - الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن أبي هريرة قال :
" لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم و استخلف أبو بكر بعده ، و كفر من كفر
من العرب ، قال عمر بن الخطاب لأبي بكر : كيف تقاتل الناس و قد قال رسول الله
صلى الله عليه وسلم : ( فذكره ) ، فقال أبو بكر : و الله لأقتلن من فرق بين
الصلاة و الزكاة ، فإن الزكاة حق المال ، و الله لو منعوني عقالا كانوا يؤدونه
إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه ، فقال عمر بن الخطاب :
فو الله ما هو إلا أن رأيت الله عز و جل قد شرح صدر أبي بكر للقتال فعرفت أنه
الحق " .
أخرجه البخاري ( 3 / 206 ، 12 / 232 - 234 ، 13 / 206 ) و مسلم ( 1 / 38 )
و أبو داود ( 1 / 243 ) و النسائي ( 2 / 161 ) و الترمذي ( 2 / 100 طبع بولاق )
و أحمد ( 1 / 19 ، 35 ، 47 - 48 ، 2 / 423 ، 528 ) من طرق عنه .
2 - عن الزهري أيضا عن سعيد بن المسيب عنه به .
أخرجه مسلم ( 1 / 39 ) و النسائي ( 2 / 162 ) .
3 - عن الأعمش عن أبي صالح عنه .
أخرجه مسلم و النسائي و الترمذي و ابن ماجه ( 2 / 475 ) .
4 - عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عنه بلفظ : " أقاتل الناس " .
تفرد به مسلم .
5 - عن سفيان عن أبي صالح مولى التوأمة عنه .
تفرد به أحمد ( 2 / 475 ) ، و سنده حسن .
6 - عن محمد عن أبي سلمة عنه .
تفرد به أحمد أيضا ( 2 / 502 ) ، و سنده حسن .
7 - عن يزيد بن كيسان عن أبي حازم عنه .
تفرد به أحمد ( 2 / 527 ) و سنده صحيح على شرط مسلم .
8 - عن عاصم عن زياد بن قيس عنه بلفظ " نقاتل الناس .... " .
أخرجه النسائي و إسناده حسن .
9 - عن همام بن منبه عنه بلفظ : " لا أزل أقاتل .... " .
أخرجه أحمد ( 2 / 314 ) بسند على شرطهما .
10 - عن عبد الرحمن بن أبي عمرة عنه بلفظ همام .
أخرجه أحمد ( 2 / 482 ) و هو على شرطهما أيضا .
11 - عن محمد بن عجلان قال سمعت أبي عنه بلفظ العلاء ابن عبد الرحمن عن أبيه .
و قد ذكرت في محالها .
12 - عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم
خيبر :
" لأدفعن الراية إلى رجل يحب الله و رسوله يفتح الله عليه . قال : فقال عمر :
فما أحببت الإمارة قبل يومئذ ، فتطاولت لها ، و استشرفت رجاء أن يدفعها إلي ،
فلما كان الغد دعا عليا ( ع ) فدفعها إليه ، فقال : قاتل و لا تلتفت حتى يفتح
عليك ، فسار قريبا ثم نادى : يا رسول الله علام أقاتل ؟ قال : حتى يشهدوا أن لا
إله إلا الله ، و أن محمدا رسول الله ، فإذا فعلوا ذلك فقد .... " الخ .
أخرجه الطيالسي رقم ( 2441 ) : حدثنا وهيب عن سهيل به . و من هذا الوجه أخرجه
أحمد أيضا ( 2 / 384 ) و اللفظ له .. و هذا سند صحيح على شرط مسلم .
13 - عن كثير بن عبيد عنه بلفظ :
" أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ، و أن محمدا رسول الله ،
و يقيموا الصلاة ، و يؤتوا الزكاة ، ثم قد حرم علي دماؤهم و أموالهم ، و حسابهم
على الله عز و جل " .
أخرجه أحمد ( 2 / 345 ) من طريق سعيد بن كثير بن عبيد عنه .
و هذا إسناد حسن رجاله كلهم ثقات معروفون غير كثير بن عبيد ، و قد روى عنه
جماعة ، و وثقه ابن حبان و قد أخرجه من هذا الوجه ابن خزيمة أيضا كما في
" الفتح " ( 12 / 232 ) .
و قد ذكرت آنفا أن الحديث رواه جمع من الصحابة و ذكرت الأول منهم .
و الثاني : ابن عمر و لفظه :
" أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ، و أن محمدا رسول الله ،
و يقيموا الصلاة ، و يؤتوا الزكاة ، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم و أموالهم
إلا بحق الإسلام ، و حسابهم على الله "
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں حتٰی کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور میں (محمد) اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) اللہ کی راہ میں جنگ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم کرنا ہے۔ (2) کسی شخص کے اسلام میں واقعی داخل ہو جانے کا ثبوت تین چیزیں ہیں: توحید و رسالت کا اقرار کرنا، نماز باقاعدی سے ادا کرنا اور اسلام کے مالی حق یعنی زکاۃ کی ادائیگی کرنا۔ (3) مذکورہ بالا آیات اور حدیث میں اسلام کے صرف تین ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ (اقرار شہادتین، نماز اور زکاۃ) اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتین کے بغیر تو اسلام میں داخل ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ نماز ایسی اجتماعی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر ہر حال میں ادا کرنا فرض ہے، اس لیے اسے اسلام اور کفر کے درمیان امتیازی علامت قرار دیا گیا ہے اور زکاۃ اگرچہ صرف مال داروں پر فرض ہے لیکن اسلامی حکومت دولت مندوں سے اس کی وصولی اور ناداروں میں اس کی تقسیم کا جس طرح اہتمام کرتی ہے، اس بنا پر یہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں واضح امتیاز کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ زکاۃ صرف مسلمانوں سے لی جاتی ہے اور مسلمانوں ہی میں تقسیم کی جاتی ہے۔ (4) اس حدیث میں دو ارکان (روزہ اور حج) کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے اگر ایک شخص بغیر روزہ رکھے اپنے آپ کو روزے دار باور کرانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔ اور حج اول تو سب مسلمانوں پر فرض ہی نہیں، دوسرے صاحب استطاعت افراد پر بھی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔ علاوہ ازیں جس قوم کے خلاف جنگ کی جا رہی ہو وہ اگر روزہ رکھنے اور حج کرنے کا اقرار بھی کریں تو اس کے عملی اظہار کے لیے انہیں خاص مہینوں کا انتظار کرنا پڑے گا، لہذا جنگ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ایسے کاموں سے قائم کرنا حکمت کے منافی ہے۔ واللہ أعلم.
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں“ ۱؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎ : اس سے اسلام کے چار بنیادی ارکان معلوم ہوئے:
۱۔ توحید باری تعالیٰ، ۲۔ رسالت محمدیہ کا یقین و اقرار، ۳۔ اقامت نماز ، ۴۔ زکاۃ کی ادائیگی، یہ یاد رہے کہ دوسری صحیح حدیث: (بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ) میں اسلام کے پانچویں رکن روزہ کا بھی ذکر ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) S.A.W.W said: ‘I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-Allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and they establish regular prayers and pay Zakât.” (Sahih)