قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

431. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَشِمَالِهِ»

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

تمہید کتاب (باب: نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم اور سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرنے اور ہاتھ اٹھانے کی ممانعت، نیز پہلی صفوں کو مکمل کرنے اور ان میں جڑنے اور مل کر کھڑے ہونے کا حکم)

مترجم: ١. پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

431.

مسعر نے کہا: مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے (ہر) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور (جو) بائیں جانب (ہے۔)‘‘