قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1099.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ " قَالَ: قُلْنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ: «كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1099.   ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے خبر دی، انھوں نے عمارہ بن عمیر سے اور انھوں نے ابو عطیہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی، کہا: میں او مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔  ہم نے پوچھا: ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا! محمد ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک (بہت) جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا (اس کی نسبت قدرے) تاخیر سے افطار کرتا ہے او ر میں تاخیر سے نماز پڑھتا ہے۔ انھوں نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون جلد روزہ کھولتا ہے اور جلد نماز پڑھتا ہے۔ ہم نے کہا: عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ (ابن مسعود) انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابو کریب نے یہ اضافہ کیا: اور  دوسرے ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔