قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الْإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

134.   حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ ".

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: ایمان میں وسوسے کا بیان اور جو اسے محسوس کرے وہ کیاکہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

134.   سفیانؒ نے ہشامؒ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنےوالد (عروہؒ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا، کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے، تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔‘‘