قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

589.   حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ»

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز میں کن چیزوں سے پناہ مانگی جاتی ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

589.   نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں (یہ) دعا مانگتے تھے: ’’اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہ اور قرض (میں پھنس جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: کسی کہنے والے نے کہا: اللہ رسول ﷺ آپﷺ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘‘