قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ إِحْدَادِ المَرْأَةِ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

1281. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ، تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

صحیح بخاری:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے؟)

تمہید کتاب

مترجم:

1281. حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پا س گئی تو انہوں نے کہا:میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر یقین وایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ شوہر کے سواکسی دوسری میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے،البتہ اسے شوہر کے مرنے پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔"